ابنا: سپریم کورٹ میں انتخابی فہرستوں کے حوالے سے عمران خان کی آئینی درخواست کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ عمران خان کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستوں کا کام 16 دسمبر تک مکمل کرنا تھا، ابھی تک عبوری فہرستوں کی تیاری کا کام ہی مکمل نہیں ہوسکا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن میں چار ریٹائرڈ ججز اور چیف الیکشن کمیشنر موجود ہین جو اہل لوگ ہیں۔ جسٹس طارق پرویز نے سماعت کے دوران کہا کہ ویں ترمیم کے بعد ضمنی انتخابات میں 28 ایم این ایز اور ایم پی ایز کامیاب ہوئے۔
چیف جسٹس نے کہا 18 ویں ترمیم کے بعد ضمنی انتخابات میں کامیاب امیدواروں کو نوٹس جاری کیئے گئے اور اگر ان میں سے کوئی عدالت میں پیش نہیں ہوتا تو یہ بات ان کے خلاف جائے گی۔ چیف جسٹس نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن اور انتخابی فہرستوں کی تیاری کو مذاق نہ بنایا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ ساری دنیا میں الیکشن کمیشن 20 دنوں کے نوٹس پر انتخابات کے لئے تیار ہوتا ہے۔ کیس کی سماعت کل تک کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ .......
/169